16 اکتوبر 2013 - 20:30
جنيوا مذاکرات کي کاميابي کا اعلان

ايران کے وزير خارجہ محمد جواد ظريف اور يورپي يونين کے شعبہ خارجہ پاليسي کي سربراہ کيتھرن ايشٹن نے جنيوا ميں ايران اور گروپ پانچ جمع ايک کے مذاکرات کو کامياب بتايا ہے –

ابنا: ايران کے وزير خارجہ  اور يورپي يونين کے امور خارجہ کي انچارج نے جنيوا ميں ايران اور پانچ جمع ايک کے درميان ہونے والے مذاکرات اور اتفاق رائے کو انتہائي اہم اور تعميري قرار ديا ہے-

ايران اور پانچ جمع ايک گروپ نے چار مرحلوں ميں دو روز کے مذاکرات کے بعد بدھ کي شام کو  ايک بيان جاري کرکے مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کرديا-

ايران کے وزير خارجہ محمد جواد ظريف اور يورپي يونين کے امور خارجہ کي انچارج کيتھرين ايشٹن نے مذاکرات کے اختتام پر عليحدہ عليحدہ پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مذاکرات کے نتائج کے بارے ميں نامہ نگاروں کو آگاہ کيا-

ايران کے وزير خارجہ نے جنيوا مذاکرات کو جامع اور ساتھ ہي  سود مند  قرار ديتے ہوئے اميد ظاہر کي کہ ايران کي تجاويز کے مطابق مذاکرات کا يہ سلسلہ ايک نئے مرحلے کا آغاز ثابت ہوگا  جو اس غير ضروري بحران کے خاتمے پر منتج ہوگا-ايران کے وزير خارجہ نے يہ بات زور ديکر کہي کہ فريقين نے اس  بات پر اتفاق کيا ہے کہ مشترکہ نکات تک پہنچنے کے لئے مزيد مذاکرات کي ضرورت ہے اور ماہرين کي سطح پر مذاکرات جاري رہيں گے-ايران کے وزير خارجہ نے يہ بات بھي زور ديکر کہي کہ فريقين کے درميان معاملہ کے حل کے لئے سياسي عزم پايا جاتا ہے- انہوں نے کہا کہ  ايران کي تجاويز کے مطابق بات چيت کو آگے بڑھانے کے لئے حتمي اہداف پر اتفاق رائے حاصل کرنا ضروري ہے-انہوں  نے کہا کہ ايران اور پانچ جمع ايک کے  درميان سات اور آٹھ نومبر کو جنيوا ميں ايک بار پھر مذاکرات ہونگے - انکا کہنا تھا کہ فريقين کا مقصد يہ ہے کہ ايران کي ايٹمي سرگرميوں کے پرامن ہونے کا اطمينان حاصل ہو اور اين پي ٹي معاہدے کے تحت ايراني قوم کے مکمل جوہري حقوق کا تحفظ ممکن بنايا جائے-وزير خارجہ محمد جواد ظريف نے ايک بار پھر اس بات کا اعادہ کيا کہ ايران کي ايٹمي سرگرميوں ميں تشويش کا کوئي پہلو نہيں ہے اور تہران اس بات کي پوري کوشش کر رہا ہے کہ اس حوالے سے پائي جانے والي تشويش کو برطرف کرديا جائے-

يورپي يونين کے امور خارجہ کي انچارج کيتھرين ايشٹن نے بھي اپني پريس کانفرنس کے دوران کہا کہ  ايران اور پانچ جمع ايک کے  درميان متعدد معاملات پر اتفاق رائے ہوگيا ہے-  انہوں نے کہا ايران اور پانچ جمع ايک نے مذاکرات کے دوران متعدد معاملات پر اپنے اپنے موقف کا کھل کر اظہار کيا ہے اور اس بات پر اتفاق کيا ہے کہ مذاکرات کي تفصيلات في الحال عام نہ کي جائيں-يہ پہلي بار ہے کہ جب ايران اور پانج جمع گروپ نے مذاکرات کے بعد مشترکہ بيان جاري کيا ہے  جس ميں کہا گيا ہے کہ فريقين مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے بات چيت کو آگے بڑھانے پر متفق ہيں- اس بيان ميں يہ بات زور ديکر کہي گئي ہے کہ گفتگو کي بنياد کے طور پر ايران کے وزير خارجہ کي پيش کردہ تجاويز پر پوري سنجيدگي کے ساتھ غور کيا جائے گا جبکہ  اس بات کا بھي اعلان کيا گيا ہے کہ فريقين سات اور آٹھ نومبر کو ايک بار پھر جينوا ميں ايک دوسرے سے مذاکرات کريں گے-مشترکہ بيان ميں کہا گيا ہے کہ آئندہ اجلاس سے قبل، ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کے ايٹمي ، سائنسي اور پابنديوں کے متعلق ماہرين کے درميان دو طرفہ مذاکرات کا سلسلہ جاري رہے گا تاکہ اختلاف رائے کا جائزہ اور معاملے کے حل کي عملي راہوں کا خاکہ تيار کيا جاسکے-ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کے درميان حاليہ مذاکرات کو مغربي ذرائع ابلاغ نے بھي  انتہائي اہم پيشرفت قرار ديا ہے- ايسوسي ايٹڈ پريس کے مطابق ايران اور دنيا کي بڑي طاقتوں کے درميان ہونے والے مذاکرات مثبت سوچ کے ساتھ ختم ہوئے ہيں-خبر رساں ايجنسي کے مطابق اعلي سطحي يورپي سفارت کاروں نے ايران اور بڑي طاقتوں کے درميان ہونے والے مذاکرات کو انتہائي اہم قرار ديا ہے-خبررساں  ايجنسي رائٹرز نے بھي مذاکرات کي اہميت کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانيہ کو توقع ہے کہ ايٹمي مذاکرات کے بہت ہي واضح نتائج برآمد ہونگے-فرانس پريس نے بھي جرمن وزير خارجہ کے حوالے کہا ہے کہ ايران اور پانج جمع ايک گروپ کے درميان مذاکرات نے ايٹمي معاملے کے سفارتي حل کي اميدوں ميں مزيد اضافہ کيا ہے-خبررساں  ايجنسي کے مطاب وائٹ ہاوس نے بھي مذاکرات کے نتائج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئےکہا ہے کہ ايران کے ساتھ مذاکرات ميں سنجيدگي کي نئي سطح  پيدا ہوگئي ہے-

.......

/169